ابنا: صدر آصف علی زرداری نے یوم قائداعظم پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ہر قسم کی تبدیلی ووٹ (بیلٹ) کے ذریعے آنی چاہئے، قائداعظم نے بندوق کی گولی (بلٹ) کے ذریعے تبدیلی کو مسترد کر دیا۔ آئیے ہم اس بات کا عہد کریں کہ ہم طاقت، جبر، خوف اور دھمکیوں کے ذریعے کسی تبدیلی کی اجازت نہیں دیں گے اور ووٹ کی طاقت کا عزت و احترام کریں گے کیونکہ ووٹ ہی تبدیلی کا ذریعہ ہے۔
صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے 135ویں یوم پیدائش کے موقع پر میں عوام کو مبارکباد دیتا اور انہیں اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنے اور اپنے جمہوری و سیاسی حقوق کا تحفظ کرنے اور پاکستان کو ایسا ملک بنانے کی تلقین کرتا ہوں جس میں سماجی انصاف ہو اور ہر ایک کو اپنی منزل متعین کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع میسر ہوں۔ آئیے! ہم آج کے دن بابائے قوم کے جمہوری تصورات اور اصولوں پر عملدرآمد کے لئے خود کو وقف کرنے کے ساتھ ساتھ قوم کے بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچانے والی قوتوں کو شکست دینے کے عزم کا اعادہ کریں۔ قائداعظم پاکستان کو ایسا جمہوریت ملک بنانا چاہتے تھے جو عوام کی فلاح و بہبود کی شاہراہ پر گامزن ہو مگر بدقسمتی سے آمریتوں کے دور حکومت میں عوام کی فلاح و بہبود کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ سکیورٹی کے گھمبیر مسائل کے باعث ملک انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کا شکار ہو گیا۔
قائداعظم آئین پسندی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی پاسداری، ذریعہ معاشی کی فراہمی اور عوام کے مینڈیٹ کی پاسداری کے لئے بھی ڈٹ گئے، ہمیں کبھی قومی مقصد سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئے۔ آج پاکستان کو حقیقی معنوں میں پاکستان بنانے کا عزم کریں۔
آزادی، انصاف اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے عوام کو ان کے حقیقی اختیارات واپس لوٹانے، دہشت گردی اور تشدد کے خاتمے کا عہد کرنا ہو گا۔ کرسمس کے پیغام میں صدر نے کہا کہ یہ تہوار مسیحی برادری کو مبارکباد کا پیغام دے رہا ہے۔ مسلمان حضرت عیسیٰ کا اللہ کا ایک پیغمبر ہونے کے ناطے بے حد احترام کرتے ہیں، حضرت عیسیٰ نے دنیا بھر کے انسانوں کو محبت اور اخوت کا پیغام پہنچایا تھا۔ پیپلز پارٹی عیسائی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی۔
وزیراعظم گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ قائداعظم کی بے مثال جرات مدبرانہ صلاحیتوں اور برصغیر کے مسلمانوں سے عقیدت کا نتیجہ ہے کہ ہم آزاد اور خودمختار ملک کے مالک بن گئے ہیں۔ ساری قوم بشمول بیرون ملک پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
قائداعظم نے جو کارنامہ سرانجام دیا ہے تاریخ میں اس کی کوئی مثال دینے سے قاصر ہے مشہور امریکی مورخ اسٹینلے والپرٹ کے مطابق چند ہی لوگ معنی خیز طور پر تاریخ کا رخ پلٹتے ہیں ان سے کہیں ہم دنیا کا نقشہ تبدیل کرتے ہیں اور یہ تو شاید ہی کسی نے کیا ہو کہ ایک قومی ریاست تشکیل دی ہو محمد علی جناح نے یہ تینوں کام کئے قدرت نے قائداعظم کو بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں، دیانتداری اور غیر متزلزل قوت ارادی سے نوازا تھا۔
یہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے وزیراعظم نے کرسمس کے موقع پر پاکستانی قوم اور حکومت کی طرف سے دنیا بھر خصوصاً پاکستان میں عیسائی برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد نے کہا تھا کہ اقلیتیں چاہیں تو مندر میں جائیں اور چاہیں تو مسجد یا پاکستان کی کسی اور عبادت گاہ میں۔ جمہوری حکومت اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہے کہ مسیحی برادری سمیت تمام اقلیتیں مساوی حقوق کے حقدار ہیں۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جمہوریت کے لئے خوش آئند ہے۔ اس سے لازمی طور پر بہتری آئے گی۔ افواہوں کا موسم مارچ میں ختم ہو جائے گا۔ جمہوریت کو بار بار نہیں گرایا جا سکتا۔ حکومت کے خلاف سازش سے متعلق سنہری الفاظ دہرائے نہیں جا سکتے۔
پاک فوج کے ساتھ ہر معاملے پر مل کر کام کیا ہے ایک بیان سے الجھنا نہیں چاہئے۔ فوج کے ساتھ چل رہے ہیں اور چلتے رہیں گے، ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اکٹھے کام کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاطمہ چرچ میں کرسمس کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کے استحکام کےلئے جدوجہد کی ہے اور قربانیاں دی ہیں اس جدوجہد میں بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار بھٹو کو اپنی جانوں کے نذرانے دینا پڑے ہیں ہم نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ جنرل کیانی کی جانب سے بیان کو جمہوری حلقوں میں سراہا گیا ہے اس سے بہتری آئےگی۔
حکومت کےخلاف سازش کے موقف پر قائم رہنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ”گولڈن ورڈز“ کو دہرایا نہیں جاتا۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی جمہوریت کے استحکام کی بات کی ہے، پنجاب اسمبلی سے قرارداد بھی منظور ہوئی ہے تمام سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی حمایت کی ہے۔
سیکرٹری دفاع کی تبدیلی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم بغیر سنے کسی کی مذمت نہیں کرسکتے کوئی کام چھپ کر نہیں کرینگے جو ہو گا سامنے آئےگا، مخدوم جاوید ہاشمی کی تحریک انصاف میں شمولیت کے سوال پر انہوں نے کہاکہ جاوید ہاشمی سیاست کا اہم ستون ہیں، وہ جہاں بھی جائیں ان کے لئے نیک خواہشات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ملک میں گیس کی قلت ہے، مینجمنٹ اس وقت ہو گی جب گیس ہوگی۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ مسئلہ حل کیا جائے۔ ہم نہیں چاہتے کہ عوام کو تکلیف ہو اور وہ ہمارے خلاف نعرے لگائیں ہم سیاسی کارکن ہیں، ہم سے جتنا ہوسکا اپنی طرف سے پوری کوشش کرینگے۔ اگر کسی کے پاس تقدیر بدلنے کا کوئی نسخہ ہے تو ہمیں بھی بتا دے۔
وزیراعظم نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم آئین کے مطابق ہے اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہوئی ہے۔ اقلیتوں کے تحفظات دور کرنے کےلئے وزارت اقلیتی امور کو ہدایت کردی گئی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آپ ایک بیان پر الجھ گئے ہیں ہم نے دہشت گردی کےخلاف جنگ، پاکستان امریکہ تعلقات، بھارت کے ساتھ تعلقات اور مسئلہ کشمیر سمیت شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے، ہر معاملے پر حکومت اور فوج کے درمیان ہم آہنگی کےلئے اقدامات کئے ہیں۔
نیٹو حملوں کے بعد نیٹو سپلائی کی بندش، شمسی ایئر بیس خالی کرانے اور بون کانفرنس کے بائیکاٹ کا فیصلہ دفاعی کمیٹی نے کیا تھا ۔ ہم امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ تعلقات کے نئے طریقہ کار کا تعین چاہتے ہیں اس مقصد کےلئے قومی سلامتی کمیٹی سفارشات مرتب کررہی ہے جنہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کر کے فیصلہ کیا جائےگا۔
قبل ازیں وزیراعظم نے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرےگی، سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں مسلمان، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھائیوں کے طرح رہ رہے ہیں اور سب پاکستانی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان ٹپس دیدیں تو شاید ہم ملک کی تقدیر بدل دیں۔ تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ نے قول و فعل سے محبت، ہم آہنگی، انسانی بھائی چارے اور اخوت کا پیغام دیا ہے۔
حضرت عیسیٰ اور انجیل کو ماننا مسلمانوں کے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ اس منفرد خصوصیت نے مسلم اور مسیحی برادریوں کو اخوت، اعتماد اور باہمی احترام کے رشتے میں باندھ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت کی روشنی میں روشن خیال، ترقی پسند، تحمل اور برداشت کے حامل پاکستان کی تعمیر کے لئے پرعزم ہے۔
.......
/169